09/09/2026
# # اب ایف بی آر من مانی نہیں کر سکے گا؟ ⚖️🚨
# # # سپریم کورٹ نے Taxable Income کے بارے میں اہم اصول واضح کر دیا!
کیا ایف بی آر کسی کاروبار کی **پوری Sales کو ہی Taxable Income** قرار دے کر ٹیکس لگا سکتا ہے؟
**سپریم کورٹ آف پاکستان** کے ایک اہم فیصلے میں اس سوال کا جواب واضح کر دیا گیا۔
کیس **Commissioner Inland Revenue v. Mian Liaqat Ali, Proprietor Liaqat Hospital Lahore** سے متعلق تھا، جہاں ٹیکس حکام نے الزام عائد کیا کہ ٹیکس دہندہ نے کچھ Sales ظاہر نہیں کیں۔
محکمہ نے **Section 111(1)(d)** کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ Sales چھپائی گئی ہیں، اس لیے **پوری Sales کو ہی Income** تصور کرکے اس پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ٹیکس دہندہ کا مؤقف تھا کہ:
**Sales ≠ Income**
کاروبار میں Sales حاصل ہونے کے بعد اس سے متعلق **Cost of Sales، اخراجات اور دیگر business costs** بھی ہوتے ہیں۔ اصل آمدنی وہ رقم ہے جو متعلقہ اخراجات نکالنے کے بعد باقی رہتی ہے۔
# # # سپریم کورٹ نے کیا کہا؟ ⚖️
عدالت نے واضح کیا کہ Income Tax کا بنیادی تصور **Income** پر مبنی ہے، محض **Gross Receipts یا Sales** پر نہیں۔
صرف یہ کہہ دینا کہ Sales چھپائی گئی ہیں، اس بنیاد پر ہر صورت میں **100% Sales کو Taxable Income** نہیں بنایا جا سکتا۔
اگر ٹیکس حکام کو مختلف دفعات استعمال کرکے کبھی Gross Sales اور کبھی Net Income کو اپنی مرضی سے بنیاد بنانے کی اجازت دے دی جائے تو یہ **Unfettered Discretion** بن جائے گا، جو منصفانہ ٹیکس نظام اور قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
لہٰذا **Section 111(1)(d)** کے اطلاق کی صورت میں بھی Taxable Income کا تعین قانون کے مطابق **حقیقی/Net Income** کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے، نہ کہ محض پوری Gross Sales کو Income قرار دے کر۔
# # # نتیجہ:
✅ **Sales اور Income ایک چیز نہیں ہیں۔**
✅ Business Costs اور متعلقہ اخراجات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
❌ ایف بی آر محض اپنی تشریح کی بنیاد پر پوری Sales کو Income قرار نہیں دے سکتا۔
⚖️ سپریم کورٹ نے ٹیکس حکام کی اپیل مسترد کرتے ہوئے **High Court اور Tribunal کے فیصلے برقرار رکھے۔**