M Bin Ali Tax Advisors

Directions Website

M Bin Ali Tax Advisors Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M Bin Ali Tax Advisors, Tax preparation service, Shop No. 168, Gate No. 4, New Grain Market, By Pass Road, Rahim Yar Khan, Rahimyar Khan.

1-NTN/Sales Tax Registration.
2-Income Tax.
3-Sales Tax.
4-Corporate Law.
5-Business Registration.
6-Partnership Registration.
6-Import/Export(PSW) Registration.
7-Internal Audit services.

 # # اب ایف بی آر من مانی نہیں کر سکے گا؟ ⚖️🚨 # # # سپریم کورٹ نے Taxable Income کے بارے میں اہم اصول واضح کر دیا!کیا ای...
09/09/2026

# # اب ایف بی آر من مانی نہیں کر سکے گا؟ ⚖️🚨

# # # سپریم کورٹ نے Taxable Income کے بارے میں اہم اصول واضح کر دیا!

کیا ایف بی آر کسی کاروبار کی **پوری Sales کو ہی Taxable Income** قرار دے کر ٹیکس لگا سکتا ہے؟

**سپریم کورٹ آف پاکستان** کے ایک اہم فیصلے میں اس سوال کا جواب واضح کر دیا گیا۔

کیس **Commissioner Inland Revenue v. Mian Liaqat Ali, Proprietor Liaqat Hospital Lahore** سے متعلق تھا، جہاں ٹیکس حکام نے الزام عائد کیا کہ ٹیکس دہندہ نے کچھ Sales ظاہر نہیں کیں۔

محکمہ نے **Section 111(1)(d)** کے تحت کارروائی کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ Sales چھپائی گئی ہیں، اس لیے **پوری Sales کو ہی Income** تصور کرکے اس پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ٹیکس دہندہ کا مؤقف تھا کہ:

**Sales ≠ Income**

کاروبار میں Sales حاصل ہونے کے بعد اس سے متعلق **Cost of Sales، اخراجات اور دیگر business costs** بھی ہوتے ہیں۔ اصل آمدنی وہ رقم ہے جو متعلقہ اخراجات نکالنے کے بعد باقی رہتی ہے۔

# # # سپریم کورٹ نے کیا کہا؟ ⚖️

عدالت نے واضح کیا کہ Income Tax کا بنیادی تصور **Income** پر مبنی ہے، محض **Gross Receipts یا Sales** پر نہیں۔

صرف یہ کہہ دینا کہ Sales چھپائی گئی ہیں، اس بنیاد پر ہر صورت میں **100% Sales کو Taxable Income** نہیں بنایا جا سکتا۔

اگر ٹیکس حکام کو مختلف دفعات استعمال کرکے کبھی Gross Sales اور کبھی Net Income کو اپنی مرضی سے بنیاد بنانے کی اجازت دے دی جائے تو یہ **Unfettered Discretion** بن جائے گا، جو منصفانہ ٹیکس نظام اور قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

لہٰذا **Section 111(1)(d)** کے اطلاق کی صورت میں بھی Taxable Income کا تعین قانون کے مطابق **حقیقی/Net Income** کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے، نہ کہ محض پوری Gross Sales کو Income قرار دے کر۔

# # # نتیجہ:

✅ **Sales اور Income ایک چیز نہیں ہیں۔**
✅ Business Costs اور متعلقہ اخراجات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
❌ ایف بی آر محض اپنی تشریح کی بنیاد پر پوری Sales کو Income قرار نہیں دے سکتا۔
⚖️ سپریم کورٹ نے ٹیکس حکام کی اپیل مسترد کرتے ہوئے **High Court اور Tribunal کے فیصلے برقرار رکھے۔**

کیا پاکستان میں Non-Resident Bank کی Branch پر Section 113 کے تحت Minimum Tax عائد ہو سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ ف...
06/09/2026

کیا پاکستان میں Non-Resident Bank کی Branch پر Section 113 کے تحت Minimum Tax عائد ہو سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ
فورم: اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، کراچی
مقدمہ: M/s Industrial & Commercial Bank of China
ٹیکس سال: 2012، 2013 اور 2014
متعلقہ قانون: Section 113، Section 107 اور Rule 7A of the Seventh Schedule، Income Tax Ordinance, 2001
Treaty: پاکستان اور چین کے درمیان Double Taxation Treaty — Article 7
معاملہ کیا تھا؟
اپیل کنندہ ایک چینی بینک تھا جو پاکستان میں اپنی Branch کے ذریعے کام کر رہا تھا۔
محکمہ نے اس Branch پر Section 113 کے تحت Minimum Tax عائد کیا۔
بینک نے اس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے ملکی قانون کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کے درمیان موجود Double Taxation Treaty کا حوالہ دیا۔
بینک کا بنیادی مؤقف
بینک نے Rule 7A of the Seventh Schedule اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے معاملے میں صرف Section 113 کو علیحدہ طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
مزید یہ کہ Section 107 of the Income Tax Ordinance کے تحت، جہاں پاکستان اور کسی دوسرے ملک کے درمیان ٹیکس معاہدہ موجود ہو، وہاں متعلقہ Treaty کی دفعات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
بینک نے پاکستان۔چین Treaty کے Article 7 پر انحصار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود Permanent Establishment سے متعلق ٹیکس کا معاملہ اس منافع کی بنیاد پر دیکھا جائے گا جو اس Permanent Establishment سے منسوب ہو۔
ATIR نے Treaty کے بارے میں کیا کہا؟
ٹربیونل نے Article 7 کا جائزہ لیتے ہوئے اس اصول کو اہم قرار دیا کہ Non-Resident Enterprise کی پاکستان میں موجود Permanent Establishment کے معاملے میں ٹیکس کا تعلق اس منافع سے ہوتا ہے جو اس Permanent Establishment سے منسوب ہو۔
اسی لیے معاملہ صرف Gross Turnover یا Gross Receipts کی بنیاد پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ Treaty کے تحت قابلِ ٹیکس منافع کے اصول کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
Section 107 کیوں اہم تھا؟
اس فیصلے کا ایک اہم قانونی پہلو Section 107 تھا۔
ٹربیونل کے سامنے بنیادی اصول یہ تھا کہ جب پاکستان اور دوسرے ملک کے درمیان Double Taxation Treaty موجود ہو تو متعلقہ Non-Resident کے معاملے میں ملکی قانون کو Treaty کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔
یعنی:
صرف Section 113 کو دیکھ کر Treaty کے اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
Finance Act, 2020 کا اہم نکتہ
ATIR نے یہ بھی نوٹ کیا کہ Permanent Establishment سے متعلق تبدیلی بعد میں Finance Act, 2020 کے ذریعے Section 113 میں شامل کی گئی۔
جبکہ موجودہ معاملات Tax Years 2012، 2013 اور 2014 سے متعلق تھے۔
لہٰذا بعد میں ہونے والی قانونی تبدیلی کو سابقہ ٹیکس سالوں پر اسی انداز میں لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
ATIR کا فیصلہ
ٹربیونل نے ان قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ٹیکس سالوں کے لیے Section 113 کے تحت عائد Minimum Tax برقرار نہیں رکھا اور بینک کی اپیلیں منظور کر لیں۔
اہم قانونی سبق
اس فیصلے سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے:
جب کسی Non-Resident کا معاملہ Double Taxation Treaty کے دائرے میں آتا ہو تو صرف ملکی قانون کی ایک دفعہ کو دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔
متعلقہ معاملے میں:
• Section 113
• Rule 7A of the Seventh Schedule
• Section 107 of the Income Tax Ordinance
• اور پاکستان۔چین Treaty کا Article 7
کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری تھا۔
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ Non-Resident اور Permanent Establishment کے معاملات میں Treaty کی دفعات کو نظر انداز کرکے صرف Turnover کی بنیاد پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔

FBR has once again changed the Income Tax Return 2026 form. Although the official deadline for filing the return is 30 S...
03/09/2026

FBR has once again changed the Income Tax Return 2026 form. Although the official deadline for filing the return is 30 September 2026, the return form is still in the experimental stage, and further changes may be expected. Taxpayers should therefore keep an eye on the FBR portal for the latest updates before filing their return.

*ایف بی آر نے ہدف سے 12 ارب روپے زائد ٹیکس اکھٹا کرلیا*فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے پہلے دو م...
01/09/2026

*ایف بی آر نے ہدف سے 12 ارب روپے زائد ٹیکس اکھٹا کرلیا*

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ کے دوران 1,722 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جو 1,710 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 12 ارب روپے زیادہ ہے۔

اگست 2026 میں ایف بی آر نے 930 ارب روپے کے ماہانہ ہدف کے مقابلے میں 902 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جو ہدف سے 28 ارب روپے کم ہے تاہم جولائی اور اگست 2026-27 کا مجموعی ہدف ٹیکس مشینری کی مشترکہ کوششوں سے حاصل کرلیا گیا ہے۔

01/09/2026
خبردار! 1 کروڑ سے زائد کی بینک ٹرانزیکشن پر ایف بی آر کی براہِ راست نظر!تصور کریں کہ ایک دن آپ کے فون کی سکرین پر بینک ک...
01/09/2026

خبردار! 1 کروڑ سے زائد کی بینک ٹرانزیکشن پر ایف بی آر کی براہِ راست نظر!

تصور کریں کہ ایک دن آپ کے فون کی سکرین پر بینک کی طرف سے ایک کروڑ روپے کی بڑی منتقلی کا میسج چمکتا ہے—شاید کسی پراپرٹی کی فروخت کی رقم، کاروباری منافع، یا سالوں کی جمع پونجی۔ آپ مطمئن ہیں کہ آپ کی رقم بینک میں بالکل محفوظ ہے، لیکن ذرا ٹھہریے! اب اس رقم پر صرف آپ اور آپ کا بینک ہی نظر نہیں رکھ رہے، بلکہ فاصلے پر بیٹھا ایف بی آر (FBR) کا ایک تیز رفتار ڈیجیٹل سسٹم بھی خاموشی سے اس بوجھل رقمی منتقلی کا نوٹ لے رہا ہے۔
فنانس ایکٹ 2026 کے تحت لایا گیا یہ نیا قانون دراصل پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک بڑی ڈیجیٹل تبدیلی کی شروعات ہے۔ اب تمام بنکوں اور الیکٹرانک منی انسٹیٹیوشنز کے لیے یہ لازمی ہو چکا ہے کہ وہ ایک کروڑ روپے (10 ملین) یا اس سے زائد کی ہر مالیاتی ٹرانزیکشن کی معلومات ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا ہب کو فراہم کریں۔ یعنی اب بڑی رقوم کی آمد و رفت چھپائی نہیں جا سکے گی، بلکہ خود بخود سسٹم کا حصہ بن جائے گی۔
اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ایف بی آر کا مرکزی ڈیٹا ہب ان تمام بینکنگ ٹرانزیکشنز کا آپ کے جمع کروائے گئے ٹیکس گوشواروں، اعلان کردہ آمدنی اور دیگر تمام مالیاتی ریکارڈز سے خودکار موازنہ کرے گا۔ اگر آپ نے اپنے ٹیکس گوشوارے میں آمدنی تو چند لاکھ دکھا رکھی ہے، لیکن بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں کا لین دین ہو رہا ہے، تو یہ شدید تفاوت (Discrepancy) فوراً سسٹم کی نظر میں آ جائے گا۔ یہی فرق آپ کے لیے قانونی نوٹس اور مزید چھان بین کی وجہ بن سکتا ہے۔
اس پورے اقدام کا بنیادی مقصد محض خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ ملک میں ڈیجیٹل ٹیکس مانیٹرنگ کو مضبوط بنانا اور معاشی شفافیت لانا ہے۔ یہ نیا نظام ان لوگوں کو واضح پیغام دے رہا ہے جو اپنی حقیقی آمدنی چھپا کر ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے میں تمام ٹیکس دہندگان کے لیے سب سے اہم مشورہ یہی ہے کہ اپنے مالی معاملات میں انتہائی محتاط رہیں۔ اپنی تمام بڑی بینکنگ ٹرانزیکشنز کے کاغذی ثبوت اور دستاویزات ہمیشہ محفوظ رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا بینکنگ ریکارڈ اور ٹیکس ریٹرن ایک دوسرے کی کامل گواہی دے رہے ہوں۔ کیونکہ اب شفافیت ہی بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔

Important Order
01/09/2026

Important Order

کیا Appeal زیرِ التواء ہونے کے دوران Tax Department فوری Recovery کے لیے Coercive Action کر سکتا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ کا ا...
01/09/2026

کیا Appeal زیرِ التواء ہونے کے دوران Tax Department فوری Recovery کے لیے Coercive Action کر سکتا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ کا اہم حکم
📍 فورم: سندھ ہائی کورٹ، کراچی
📍 مقدمہ: Syed Nadeem Hussain v. Federation of Pakistan & Others
📍 C.P. No.: D-4408 of 2026
📍 فیصلے کی تاریخ: 6 اگست 2026
📍 متعلقہ دفعات: Sections 122(5A), 131(5) & 137(2), Income Tax Ordinance, 2001
معاملہ کیا تھا؟
ٹیکس دہندہ کے خلاف Section 122(5A) کے تحت Order جاری ہوا، جس کے خلاف اس نے Appellate Tribunal Inland Revenue میں Appeal دائر کرنے کے ساتھ Stay Application بھی جمع کرائی۔
مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ Appeal اور Stay Application Tribunal کے سامنے زیرِ التواء تھیں، لیکن Tribunal نے ابھی Stay Application پر کوئی Order نہیں دیا تھا۔ اس دوران محکمہ نے Section 137(2) کے تحت جاری Demand Notice کی بنیاد پر Coercive Recovery کا خطرہ پیدا کر دیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے کیا قرار دیا؟
عدالت نے نوٹ کیا کہ Section 131(5) کے تحت Tribunal کو Tax Recovery کو مخصوص مدت کے لیے Stay کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
چونکہ Tribunal نے ابھی Taxpayer کی Stay Application پر فیصلہ ہی نہیں کیا تھا، اس لیے سندھ ہائی کورٹ نے Tribunal کو ہدایت کی کہ Taxpayer کو earliest opportunity پر سماعت فراہم کی جائے۔
اہم حکم
سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:
جب تک Tribunal، Stay Application یا Appeal میں سے کسی ایک پر Order پاس نہیں کرتا، Inland Revenue Officers مذکورہ Demand Notice کی بنیاد پر Tax کی Recovery کے لیے کوئی Coercive Action نہیں لے سکتے۔
اہم قانونی نکتہ
یہ فیصلہ یہ نہیں کہتا کہ صرف Appeal دائر کرنے سے Recovery خود بخود Stay ہو جاتی ہے۔
بلکہ اس کیس میں خاص صورتحال یہ تھی کہ Stay Application Tribunal کے سامنے زیرِ التواء تھی اور اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اسی لیے High Court نے Tribunal کے فیصلہ کرنے تک Coercive Recovery روک دی۔
Key Takeaway
اگر Appeal کے ساتھ Stay Application بھی Tribunal میں زیرِ التواء ہو اور Tribunal نے ابھی اس پر فیصلہ نہ کیا ہو، تو اس دوران Recovery کے لیے Coercive Action کے خلاف High Court سے تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے دیا۔

NADRA has confirmed that online biometric verification through the PakID mobile app has been developed and is expected t...
01/09/2026

NADRA has confirmed that online biometric verification through the PakID mobile app has been developed and is expected to become operational in the first week of September 2026. This will allow individual taxpayers, sole proprietors, and overseas Pakistanis to complete biometric verification remotely without visiting a physical centre. NADRA is also working with FBR to recognize PakID biometric verification as an alternative to the existing e-Sahulat facility.

ایف بی آر نے اسیسمنٹ کے لیے کیس منتخب کرنے کا طریقہ تبدیل کر دیاایف بی آر نے ایک نئے سرکلر کے ذریعے اہم ہدایات جاری کی ہ...
01/09/2026

ایف بی آر نے اسیسمنٹ کے لیے کیس منتخب کرنے کا طریقہ تبدیل کر دیا
ایف بی آر نے ایک نئے سرکلر کے ذریعے اہم ہدایات جاری کی ہیں، جن کا اطلاق یکم ستمبر 2026ء سے ہو گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کیا ہے اور عام ٹیکس دہندہ اس سے کیسے متاثر ہو سکتا ہے؟
سب سے پہلے سمجھیں کہ سی آر ایم کیا ہے؟
فنانس ایکٹ 2026ء کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس میں سی آر ایم کی باقاعدہ تعریف شامل کی گئی ہے۔
سادہ الفاظ میں، یہ ایک کمپیوٹرائزڈ نظام ہے جس کا مقصد ٹیکس معاملات میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرنا ہے۔
مثلاً:
🔹 فروخت کم ظاہر کرنا

🔹 اخراجات زیادہ ظاہر کرنا

🔹 آمدن ظاہر نہ کرنا

🔹 آمدن کم ظاہر کرنا

🔹 اثاثے ظاہر نہ کرنا یا کم ظاہر کرنا

🔹 لین دین ظاہر نہ کرنا یا کم ظاہر کرنا

اب نئے سرکلر نے کیا تبدیلی کی ہے؟
ایف بی آر کے نئے سرکلر کے مطابق، یکم ستمبر 2026ء سے نئی اسیسمنٹ کارروائی شروع کرنے کے لیے متعلقہ کیس کا پہلے سی آر ایم نظام کے ذریعے منتخب اور متعلقہ افسر کو تفویض ہونا ضروری ہوگا۔
سرکلر میں بالخصوص سیکشن:
121، 122، 122A، 122C اور 177 کے تحت کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کو آسان الفاظ میں سمجھیں اب اصولی طور پر طریقہ کار یہ ہوگا:
پہلے خطرے کی نشاندہی ہوگی

پھر کیس منتخب ہوگا

⬇️

پھر کیس متعلقہ افسر کو تفویض ہوگا

⬇️

اس کے بعد قانونی کارروائی شروع ہوگی
ایک بہت اہم بات
سرکلر کے مطابق اگر کسی کیس میں اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کارروائی شروع کی جاتی ہے تو اسے غیر مجاز سمجھا جا سکتا ہے اور مجاز اتھارٹی اسے ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دے سکتی ہے۔
سی آر ایم کی قانونی بنیاد کیا ہے؟
یہ صرف ایک انتظامی نظام نہیں ہے۔
فنانس ایکٹ 2026ء نے سی آر ایم کی باقاعدہ تعریف قانون میں شامل کی ہے۔
اسی طرح سیکشن 230I میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمپلائنس رسک مینجمنٹ کا قانونی ڈھانچہ موجود ہے۔
یعنی:
قانون میں سی آر ایم کی تعریف موجود ہے

⬇️

سی آر ایم کے لیے ایک باقاعدہ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی ڈھانچہ موجود ہے

⬇️

اور اب نئے سرکلر کے ذریعے کیس کے انتخاب کے لیے اس نظام کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے
قانون میں سی آر ایم کی اصل تعریف
Section 165AB(f):

”compliance risk management (CRM)” means a computer
programme for identification and communication of compliance
risks, including understatement of sales, overstatement of
expenses, nonreporting or under-reporting of incomes, assets,
and transactions.]
سیکشن 230I کیا کہتا ہے؟

(1) The
Directorate General of Compliance Risk Management shall consist of a Director
General and as many Directors, Additional Directors, Deputy Directors, Assistant
Directors and such other officers as the Board may, by notification in the official
Gazette, appoint.
(2) The Board may, by notification in the official Gazette —
(a) specify the functions, jurisdiction and powers of the Directorate
General of Compliance Risk Management and its officers; and
(b) confer the powers of authorities specified in section 207 upon the
Directorate General and its officers.]
خلاصہ
فنانس ایکٹ 2026ء نے سی آر ایم کی تعریف قانون میں شامل کی۔

سیکشن 230I نے سی آر ایم کے ڈائریکٹوریٹ کا قانونی ڈھانچہ فراہم کیا۔

اور اب یکم ستمبر 2026ء سے نئے سرکلر کے ذریعے اسیسمنٹ کارروائی شروع کرنے کے لیے سی آر ایم کے ذریعے کیس کا انتخاب اور تفویض لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مکمل سرکلر اس پوسٹ کے ساتھ منسلک ہے۔

Address

Shop No. 168, Gate No. 4, New Grain Market, By Pass Road, Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64200

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 20:00
Sunday 10:00 - 20:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Bin Ali Tax Advisors posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share