22/05/2026
حصوں والی قربانی عبادت، تقویٰ اور عصرِ حاضر کے فقہی تقاضے
مفتی یحییٰ معین
قربانی اسلامی شریعت کی ایک عظیم، مقرر اور revealed rite (وحیِ الٰہی سے ثابت شدہ عبادت) ہے، جسے محض ایک رسم، meat festival (گوشت خوری کے تہوار) یا جانور ذبح کرنے کے عمل تک محدود سمجھ لینا اس کے حقیقی فلسفے سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ یہ دراصل اللہ رب العزت کی نعمتوں پر شکر، اس کے حکم کے سامنے submission (سرِ تسلیم خم کرنے)، دل میں تقویٰ پیدا کرنے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال اطاعت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ قربانی کا مقصد صرف
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔👇
https://www.linkedin.com/pulse/%D8%AD%D8%B5%D9%88%DA%BA-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%D8%AA%D9%82%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%B5%D8%B1-%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%81%D9%82%DB%81%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%B6%DB%92-moin-cvqbf
15/05/2026
حاجاتِ اصلیہ اور زائد مال: استطاعتِ حج اور معاشی تحفظ کا توازن
مفتی یحییٰ معین
اسلامی فقہ کا حسن اس کے نظامِ عدل اور حقیقت پسندی میں پنہاں ہے، جہاں باری تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کو انسانی زندگی کے بنیادی تحفظ کے ساتھ نہایت حکیمانہ انداز میں پیوست کیا گیا ہے۔ حجِ بیت اللہ کی فرضیت کے باب میں جس ’استطاعت‘ کو معیار بنایا گیا ہے، اس کی حقیقی تفہیم اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ’حاجاتِ اصلیہ‘(Basic Necessities) کے فقہی تصور کو کما حقہ نہ سمجھ لیا جائے۔ شریعتِ مطہرہ کا یہ ایک پختہ ضابطہ ہے کہ اللہ کا حق (عبادت) اس وقت بندے پر لازم ہوتا ہے جب وہ اپنی فطری اور ناگزیر ضرورتوں سے فارغ البال ہو۔ چنانچہ فقہائے کرام نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ
مزید پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔👇
https://www.linkedin.com/pulse/%D8%AD%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D9%85%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B7%D8%A7%D8%B9%D8%AA-%D8%AD%D8%AC-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D9%81%D8%B8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D9%88%D8%A7%D8%B2%D9%86-moin-itsdf
11/05/2026
جامع مسجد بمبئی میں نوعمر بچوں کے لیے منفرد ’’سیکس ایجوکیشن‘‘ پروگرام
فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کی خصوصی تربیتی نشست میں ۲۵؍سے زائد بچوں کی شرکت، بلوغت، طہارت اور اسلامی ذمہ داریوں پر رہنمائی
ممبئی۔ ۹؍فروری:جامع مسجد بمبئی کے صحن میں واقع فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں سنیچر کو بلوغت کی عمر کو پہنچنے والے بچوں کے لیے ایک منفرد اور نہایت اہم ’سیکس ایجوکیشن و اسلامی تربیتی ورکشاپ‘کا انعقاد کیاگیا، جس میں ممبئی اور اطراف کے ۲۵؍سے زائد اسکولی بچوں نے شرکت کی۔ یہ ایک روزہ خصوصی ورکشاپ خاص طور پر ۱۲؍سے ۱۶؍سال کی عمر کے لڑکوں کے لیے صبح ۹؍بجے سے شام ۶؍بجے تک منعقد کی گئی، جس کی قیادت ادارہ کے ڈائریکٹر، معروف عالمِ دین اور شریعہ ایڈوائزر مفتی یحییٰ معیننے کی،ورکشاپ کا عنوان ’عمر کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے: ٹین ایج میں خوش آمدید‘رکھا گیا تھا، جس کا مقصد نو عمر بچوں کو بلوغت کے مرحلے میں پیش آنے والی جسمانی، ذہنی اور جذباتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دینی ذمہ داریوں، پاکی و ناپاکی، عبادات اور موجودہ دور کے چیلنجز کے بارے میں درست، باوقار اور اسلامی رہنمائی فراہم کرنا تھا،اپنے خطاب میں مفتی یحییٰ معین نے کہا کہ بلوغت زندگی کا ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلہ ہے، جہاں سے انسان پر دینی فرائض لازم ہوجاتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت سے مسلم بچے نماز کے فرائض، وضو کے مسائل، غسل کب فرض ہوتا ہے، احتلام، جسمانی تبدیلیوں اور پاکی و ناپاکی کے بنیادی احکام سے واقف نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبہ چونکہ دینی ماحول سے وابستہ ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان مسائل سے کسی حد تک آشنا ہوتے ہیں، لیکن اسکول اور کالج میں زیرِ تعلیم بچوں کے لیے اس طرح کی تربیت کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں،اسی احساس اور ضرورت کے تحت تین سال قبل اس تربیتی سلسلے کا آغاز کیا گیا تھا اور الحمدللہ آج اس کی تیسری نشست کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی،ورکشاپ میں بچوں کو بلوغت، جسمانی و ذہنی پختگی اور ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی دی گئی، اس کے ساتھ اسلامی فرائض کی وضاحت، پاکی و صفائی کے مسائل، وضو اور غسل کے احکام، بری عادتوں اور ہم عمروں کے دباؤ سے نمٹنے کے طریقے، منفی اثرات سے حفاظت، حیا اور خود نظم و ضبط کی تربیت، دین، تعلیم اور عملی زندگی میں ذمہ داری کا احساس، جدید دور کے چیلنجز، اسلامی شناخت اور تعلقات کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کی گئی،ورکشاپ میں بچوں کو صرف نظری معلومات ہی نہیں دی گئیں بلکہ عملی تربیت کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا، جامع مسجد کے حوض پر لے جاکر وضو کا صحیح طریقہ سکھایا گیا، جبکہ پاکی و ناپاکی، استنجا، غسل اور جسمانی صفائی کے اسلامی آداب پر تفصیلی رہنمائی دی گئی،اس کے ساتھ ساتھ شرکاء کو جامع مسجد کی تاریخی لائبریری کی زیارت بھی کرائی گئی تاکہ ان میں دینی تاریخ اور علمی ورثے کے تئیں دلچسپی پیدا ہو اور ان کا تعلق اپنی علمی روایت سے مضبوط ہو،ورکشاپ میں موجودہ دور کے فتنوں، بری صحبت، سوشل میڈیا کے منفی اثرات، فحاشی کے بڑھتے رجحانات، ہم عمروں کے دباؤ، عادتوں کی اصلاح، حیا، خود احتسابی اور اسلامی شناخت کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی، شرکاء کو سوالات پوچھنے اور اپنے ذہنی اشکالات دور کرنے کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور دوستانہ ماحول فراہم کیا گیا، جس سے بچوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
08/05/2026
حج کے لیے زادِ راہ اور راحلہ :ملکیت، قدرت اور قبولِ مال کے مسائل
مفتی یحییٰ معین
حجِ بیت اللہ کا مبارک سفر محض ایک جذباتی وابستگی کا اظہار نہیں، بلکہ یہ ایک منظم فقہی ضابطے کے تحت انجام پانے والی عظیم الشان مالی اور بدنی عبادت ہے۔ جہاں پہلی قسط میں ہم نے ’استطاعت‘کے کلی تصور اور وجوبِ حج کی اصولی شرائط کو ضبط تحریر کیا تھا، وہیں اس استطاعت کے مادی اور خارجی اجزاء کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، جن کے بغیر حج کا سفر شرعی نقطہ نظر سے’سبیل‘(راستہ) کے زمرے میں نہیں آتا۔ فقہائے کرام نے قرآنِ کریم کی اصطلاح ’مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا‘کی تشریح کرتے ہوئے دو بنیادی عناصر کو استطاعت کا ستون قرار دیا ہے۔ایک ’زادِ راہ‘(Travel Provisions) اور دوسرا ’راحلہ‘ (Means of Transport)۔ ان دونوں عناصر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی عدم موجودگی یا ان پر ناقص قدرت کی صورت میں شریعتِ مطہرہ انسان پر حج کی فرضیت کا بوجھ نہیں ڈالتی،یہ اسلام کے اس باوقار نظامِ حیات کا مظہر ہے جو انسان کو مادی وسائل کی فراہمی کے بغیر کسی ایسی ذمہ داری کا مکلف نہیں بناتا جس کی ادائیگی اس کے لیے مشقتِ لا یطاق یا دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کا باعث بنے۔
’ زادِ راہ ‘سے مراد وہ تمام مالی وسائل اور مادی سامان ہیں جو ایک عازم حج کو اپنے وطن سے روانگی کے لمحے سے لے کر، حجاز مقدس میں قیام، مناسک کی ادائیگی اور پھر بخیر و عافیت واپس اپنے گھر پہنچنے تک درکار ہوتے ہیں،اس میں خوراک، لباس، رہائش، ادویات اور راستے کے وہ تمام متفرق اخراجات شامل ہیں جو ایک مسافر کو پیش آ سکتے ہیں، فقہائے حنفیۃ نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ زادِ راہ پر قدرت صرف اس صورت میں معتبر ہوگی جب وہ مال انسان کی اپنی ’ملکیتِ تامہ‘میں ہو۔ ملکیت کی یہ شرط اس لیے لگائی گئی تاکہ عبادت کا ڈھانچہ دوسروں کے کرم یا عارضی احسان پر قائم نہ ہو، اگر کسی شخص کے پاس اپنا مال نہیں ہے، لیکن اسے کوئی دوست یا عزیز یہ کہے کہ ’آپ میرے ساتھ چلیں، آپ کے کھانے پینے کا ذمہ مجھ پر ہے‘، تو محض اس زبانی وعدے یا سہولت کی بنیاد پر اس شخص پر حج فرض نہیں ہوگا،شریعت کا مزاج یہ ہے کہ حج جیسی مستقل اور عظیم عبادت کے وجوب کے لیے وسائل بھی مستقل اور یقینی ہونے چاہئیں۔ اگر زادِ راہ کا حصول دوسروں کی مرضی یا ان کی خوشنودی پر موقوف ہو، تو اسے شرعی استطاعت نہیں کہا جائے گا، کیونکہ احسان کرنے والا کسی بھی وقت اپنے ارادے سے پھر سکتا ہے، جس سے مسافر کی تذلیل یا اس کی عبادت میں خلل کا اندیشہ رہتا ہے۔
اسی طرح ’راحلہ ‘یعنی سواری یا ذریعۂ سفر بھی استطاعت کا ایک لازمی اور ناگزیر جزو ہے،قدیم فقہی متون میں راحلہ کا اطلاق اونٹ، گھوڑے یا خچر جیسی سواریوں پر ہوتا تھا، لیکن اس کی روح‘ذرائع نقل و حمل‘ پر قدرت پانا ہے۔ عصرِ حاضر میں اس کا مصداق ہوائی جہاز کا ٹکٹ، ویزا فیس، پاسپورٹ کے اخراجات، ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور سعودی حکومت کے مقرر کردہ لازمی حج اصول و پرٹوکول ہیں۔ فقہائے کرام نے راحلہ پر قدرت کے دو بنیادی طریقے بیان کیے ہیں ،اول یہ کہ وہ سواری یا اس کی قیمت انسان کی اپنی ملکیت میں ہو، دوم یہ کہ وہ اسے کرایہ پر حاصل کر کے اس پر شرعی قبضہ حاصل کرنے کی مالی سکت رکھتا ہو۔ یہاں ایک فقہی نکتہ یہ ہے کہ اگر سواری محض ’عاریت‘ کے طور پر دی گئی ہو یا کسی نے صرف یہ کہہ دیا ہو کہ ’میری گاڑی آپ کے اختیار میں ہے‘، تو اس سے استطاعت ثابت نہیں ہوتی۔ شریعت کا یہ اصول انسان کی عزتِ نفس کا محافظ ہے؛ یہ نہیں چاہتی کہ اللہ کا سپاہی کسی کی مانگی ہوئی سواری پر اللہ کے گھر جائے اور راستے میں صاحبِ سواری کے مزاج یا تغیرِ حالات کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی بیٹے نے اپنے والد کے لیے حج کا انتظام تو کر دیا مگر مال والد کی ملکیت میں نہیں دیا، تو فقہی اعتبار سے والد مستطیع نہیں کہلائے گا جب تک کہ وہ مال اسے ’ہبہ "کر کے مالک نہ بنا دیا جائے۔
اسی بحث سے ایک اہم اور علمی سوال پیدا ہوتا ہے، جو معاشرے میں عام ہے کہ ’اگر کوئی شخص حج کے لیے مال پیش کرے، تو کیا اسے قبول کرنا واجب ہے‘؟ اس پر فقہائے حنفیۃ کا موقف نہایت دو ٹوک ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں صراحت موجود ہے کہ کسی کا دیا ہوا مال یا حج کی پیشکش قبول کرنا انسان پر واجب نہیں ہے، خواہ پیشکش کرنے والا کوئی اجنبی ہو یا قریبی رشتہ دار جیسے بیٹا، بھائی یا شوہر، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حج کی فرضیت کی اصل شرط ’استطاعتِ ذاتی‘ہے، اور جب تک یہ شرط خود بخود پیدا نہ ہو، اسے دوسروں کے احسان کے ذریعے پیدا کرنا انسان کے ذمہ لازم نہیں ہے، اگر قبول کرنا واجب قرار دیا جاتا، تو اس سے ایک طرح کا سماجی اور نفسیاتی دباؤ پیدا ہوتا جو انسان کی آزادی اور وقار کے منافی ہوتا۔ شریعت نے انسان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ دوسروں کے مالی احسان کا بوجھ اٹھائے بغیر اپنی زندگی گزار سکے، یہاں شریعتِ مطہرہ کی ایک نہایت لطیف اور انسانی نفسیات سے ہم آہنگ حکمت سامنے آتی ہے کہ اس نے عبادت کے وجوب کو کسی دوسرے کے احسان، کرم یا مالی پیشکش کے ساتھ وابستہ نہیں کیا۔ بظاہر کسی کا حج کے لیے مال پیش کرنا ایک نیکی اور خیرخواہی معلوم ہوتی ہے، لیکن انسانی مزاج، خاندانی تعلقات اور سماجی ماحول کو سامنے رکھا جائے تو ہر احسان اپنے ساتھ ایک خاموش بوجھ بھی رکھتا ہے۔ بعض اوقات دینے والا زبان سے کچھ نہیں کہتا، مگر لینے والے کے دل پر یہ احساس باقی رہتا ہے کہ میں کسی کے احسان کے نیچے ہوں؛ کبھی یہ احسان آئندہ مطالبات، توقعات، رویّوں یا خاندانی گفتگو میں دباؤ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ شریعت نے انسان کو اس باریک نفسیاتی غلامی سے بھی محفوظ رکھا ہے، کیونکہ حج اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، کسی انسان کے احسان کا بدل چکانے کے لیے نہیں۔
اسی لیے اگر کوئی شخص کسی کی مالی پیشکش قبول نہ کرے تو اسے بے دینی، ناشکری یا حج سے بے رغبتی نہیں کہا جا سکتا۔ ممکن ہے وہ اپنے وقار، اپنی آزادی، اپنے گھریلو حالات یا آئندہ تعلقات کی نزاکت کو سامنے رکھ کر قبول نہ کر رہا ہو۔ شریعت نے اس کی اس آزادی کو تسلیم کیا ہے۔ یہ دین کا کمالِ اعتدال ہے کہ ایک طرف وہ صاحبِ استطاعت پر حج کو فرض قرار دیتا ہے، اور دوسری طرف غیر مستطیع کو لوگوں کے احسانات کے دروازے پر کھڑا ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت صرف بدن اور مال کی طاقت کو نہیں دیکھتی، بلکہ انسان کے وقار، دل کی آزادی اور نفسیاتی سکون کو بھی اہمیت دیتی ہے تاہم، اس مسئلے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر کسی نے خوش دلی سے وہ مال قبول کر لیا اور وہ اس کی ملکیت اور قبضے میں آ گیا، تو اب وجوب کا حکم بدل جائے گا،جیسے ہی مال پر قبضہ ہوا، وہ شخص ’صاحبِ استطاعت‘ بن گیا اور اب اس پر حج ادا کرنا فرض ہو گیا ہے،گویا قبول کرنے سے پہلے وہ آزاد تھا، مگر قبول کرنے کے بعد وہ خود اپنے اوپر اس عظیم فریضے کو لازم کر لیتا ہے۔
جدید دور میں راحلہ اور زادِ راہ کے مسائل مزید وسعت اختیار کر گئے ہیں، آج کے دور میں صرف پیسے کا ہونا کافی نہیں، بلکہ ’قانونی قدرت‘بھی استطاعت کا حصہ ہے،اگر کسی کے پاس وافر مال ہو لیکن اسے حج کا کوٹہ نہ ملے، پاسپورٹ یا ویزا جاری نہ ہو، یا حکومت کی طرف سے کوئی ایسی پابندی عائد ہو جو اس کے سفر میں حائل ہو، تو فقہی اعتبار سے وہ شخص ’راحلہ‘ پر قادر نہیں سمجھا جائے گا اور اس پر حج کا وجوب قائم نہیں ہوگا۔ اسی ذیل میں ایک نہایت اہم معاصر مسئلہ یہ بھی ہے کہ حج کے لیے صرف سعودی عرب پہنچ جانا کافی نہیں، بلکہ حج کے لیے وہی راستہ معتبر ہے جو قانوناً، انتظاماً اور شرعاً درست ہو۔ بعض لوگ وزٹ ویزا، سیاحتی ویزا، عمرہ ویزا یا دوسرے غیر متعلقہ ذرائع سے حجازِ مقدس پہنچ کر حج ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حج کے لیے مقررہ سرکاری اجازت، حج ویزا، تصریح، کوٹہ اور انتظامی ضوابط کی پابندی محض دفتری کارروائی نہیں، بلکہ نظمِ عامہ، حجاج کی حفاظت، رہائش، نقل و حمل، صحت، ہجوم کے نظم اور انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق ایک ضروری نظام ہے۔ جب کسی حکومت یا مجاز انتظامیہ نے حج کے لیے مخصوص اجازت اور طریقہ مقرر کیا ہو تو اس کی خلاف ورزی کر کے حج کے مناسک تک پہنچنے کی کوشش شرعی مزاج کے بھی خلاف ہے اور قانونی اعتبار سے بھی درست نہیں۔
یہ بات خاص طور پر سمجھنے کی ہے کہ حج جیسی عظیم عبادت کو دھوکے، چھپنے، غلط بیانی، غیر مجاز راستے یا قانون شکنی کے ساتھ جوڑنا اس عبادت کے وقار کے منافی ہے۔ اگر کوئی شخص مطلوبہ اجازت کے بغیر سفر کرتا ہے، یا ایسے ایجنٹوں کے ذریعے جاتا ہے جو غیر قانونی راستے دکھاتے ہیں، یا حج ویزا کے بجائے کسی اور ویزا پر حج کرانے کا وعدہ کرتے ہیں، تو یہ محض سفری خطرہ نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور قانونی خطرہ بھی ہے۔ شریعت نے جس ’سبیل‘ کو حج کے وجوب کی شرط بنایا ہے، وہ محفوظ، جائز، باوقار اور منظم راستہ ہے؛ ایسا راستہ نہیں جس میں انسان قانون شکنی، گرفتاری، جرمانے، ذلت، بدنظمی یا دوسروں کے حقوق میں خلل کا سبب بنے۔ اس لیے اگر کسی شخص کے پاس مال موجود ہو، مگر اسے حج کا قانونی موقع، صحیح ویزا، سرکاری اجازت یا معتبر پیکیج حاصل نہ ہو، تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ابھی اس کے لیے شرعی استطاعت مکمل نہیں ہوئی۔ ایسے موقع پر صبر، دعا، صحیح طریقے سے درخواست، معتبر ذرائع سے رجسٹریشن اور قانونی اجازت کا انتظار ہی شریعت کے مزاج کے مطابق ہے۔ عبادت کا شوق قابلِ قدر ہے، لیکن عبادت کا صحیح راستہ بھی عبادت ہی کا حصہ ہے۔
اسی طرح اگر کسی ملک میں جنگ یا وبا کی وجہ سے راستے بند ہوں، تو اسے ’عدمِ امنیتِ راہ‘کہا جائے گا، جو استطاعت کو معطل کر دیتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے اس منضبط ڈھانچے سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ عبادات کے وجوب میں حقیقت پسندی اور انسانی سہولت کو اولیت و فوقیت حاصل ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف انسان ویزا اور ٹکٹ کے لیے پریشان ہو اور دوسری طرف اس پر حج کا وجوب بھی برقرار رہے،اللہ تعالیٰ نے دین میں تنگی نہیں بلکہ یسر رکھا ہے، اس لیے زادِ راہ اور راحلہ محض سفر کے سامان نہیں، بلکہ یہ وہ شرعی حدود ہیں جو مستطیع اور غیر مستطیع کے درمیان تمیز کرتی ہیں۔ ان وسائل کا اپنی ملکیت میں ہونا، ان پر مکمل اختیار رکھنا اور دوسروں کے احسانِ ممنون سے پاک ہونا ہی وہ ’سبیل‘ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔ فقہاء نے ان مسائل کی اتنی تفصیل اس لیے بیان کی تاکہ ہر مسلمان یہ جان سکے کہ اس کا رب اس سے کیا تقاضا کر رہا ہے، حج ایک ایسا سفر ہے جہاں انسان کو دنیاوی علائق سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا ہوتا ہے، اور یہ توجہ اسی وقت ممکن ہے جب اس کے سفری وسائل مستحکم، حلال اور اس کے اپنے اختیار میں ہوں،ان فقہی اصولوں کی روشنی میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین داری نام ہے شعور اور ضابطے کا، نہ کہ جذبات میں آ کر اپنی حدود سے تجاوز کرنے کا،یہی وہ متوازن تصورِ استطاعت ہے جو حج جیسی عظیم اور آفاقی عبادت کو جلال و وقار اور عظیم الشان بناتا ہے۔
(مضمون نگار جید عالمِ دین، ممتاز شریعہ اسکالر، صاحبِ بصیرت تجزیہ نگار، فائنانس ایکسپرٹ اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر بمبئی کے ڈائریکٹر ہیں)