01/09/2026
⚖️ ایف بی آر کا اہم نیا سرکلر — یکم ستمبر 2026 سے Assessment Proceedings کے لیے CRM Selection لازمی
وفاقی بورڈ آف ریونیو نے Income Tax Circular No. 01 of 2026-27 (IR-Operations) مورخہ 31 اگست 2026 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت یکم ستمبر 2026 سے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے تحت نئی Assessment اور Amendment Proceedings کے آغاز کے لیے Compliance Risk Management (CRM) System کے ذریعے کیس کا انتخاب اور Assignment لازمی قرار دیا گیا ہے۔
خصوصاً Sections 121، 122، 122A، 122C اور 177 کے تحت کوئی نئی کارروائی CRM-based selection کے بغیر شروع نہیں کی جا سکے گی۔
اہم طور پر، 31 اگست 2026 تک پہلے سے جاری اور زیرِ التوا کارروائیاں موجودہ طریقۂ کار کے تحت مکمل کی جا سکتی ہیں، تاہم یکم ستمبر 2026 یا اس کے بعد جاری ہونے والی نئی Amendment، Reassessment یا Show Cause کارروائی کو CRM-based selection process کی پابندی کرنا ہوگی۔
یہ اقدام ٹیکس انتظامیہ میں شفافیت، یکسانیت، Risk-Based Assessment اور اختیارات کے منظم استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
📚 قانونی حوالہ:
Income Tax Circular No. 01 of 2026-27 (IR-Operations)
مورخہ: 31 اگست 2026
نفاذ: یکم ستمبر 2026
جاری کردہ تحت Section 214, Income Tax Ordinance, 2001
⚖️ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز کے لیے اہم نکتہ:
یکم ستمبر 2026 کے بعد کسی Assessment یا Amendment Notice کی صورت میں صرف نوٹس کا جواب دینا کافی نہیں؛ متعلقہ کارروائی کے اختیار، قانونی طریقۂ کار، CRM Selection اور دیگر قانونی تقاضوں کا بھی جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
قانون سمجھیں، اپنے حقوق جانیں، اور ٹیکس معاملات میں بروقت پیشہ ورانہ مشاورت حاصل کریں۔
Muhammad Uzair
Income Tax Lawyer & Consultant
Uzair Tax Consultant & Associates
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
31/08/2026
لوہے اور اسٹیل کے مینوفیکچررز کے لیے اہم ٹیکس اور کارپوریٹ اپڈیٹ
ایف بی آر نے 27 اگست 2026 کو Sales Tax General Order No. 21 of 2026 جاری کیا ہے، جس کا مقصد لوہے اور اسٹیل کے مینوفیکچررز کی رضاکارانہ کارپوریٹائزیشن کے عمل میں موجود مشکلات کو دور کرنا ہے۔ �
Federal Board of Revenue
یہ حکم نامہ پہلے جاری کردہ متعلقہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈرز کے تسلسل میں جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت مزید نئے کارپوریٹ اداروں کو منظور شدہ جدول میں شامل کیا گیا ہے۔
اس تازہ حکم نامے میں چار مزید اداروں کو شامل کیا گیا ہے اور ان کے سابقہ و نئے ٹیکس رجسٹریشن نمبرز، سیلز ٹیکس رجسٹریشن، رجسٹرڈ پتہ، فیکٹری/مینوفیکچرنگ مقام اور صنعتی بجلی کے کنکشن کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔
⚖️ قانونی اہمیت:
یہ اقدام لوہے اور اسٹیل کے شعبے میں کاروبار کو غیر کارپوریٹ ڈھانچے سے باقاعدہ کارپوریٹ ساخت میں منتقل کرنے، ٹیکس ریکارڈ کو منظم رکھنے اور کاروباری و صنعتی رجسٹریشن کے تسلسل کو بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
کاروباری افراد اور صنعتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ کارپوریٹائزیشن کے ساتھ ساتھ اپنے ٹیکس، سیلز ٹیکس، صنعتی رجسٹریشن اور متعلقہ ریکارڈ کی قانونی مطابقت بھی یقینی بنائیں۔
📄 حوالہ:
Sales Tax General Order No. 21 of 2026 — IR Operations
مورخہ: 27 اگست 2026
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
31/08/2026
یونٹی فوڈز میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیاں، ایس ای سی پی کی تحقیقات پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا
ایس ای سی پی کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنی یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے مالی معاملات کی چھان بین اور تحقیقات میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوایا گیا۔ ایس ای سی پی کے ریفرنس پر ایف آئی اے نے کمپنی کے سابق انتظامی عہدیداروں اور دیگر افراد کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کمپنی اور شیئر ہولڈرز کے فنڈز کے غلط استعمال اور اکاؤنٹس میں مبینہ ردوبدل کے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
29/08/2026
سیکیورٹیز بروکرز کے لیے SECP کی اہم مجوزہ ترامیم
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے S.R.O.1441(I)/2026 مورخہ 24 اگست 2026 کے ذریعے Securities Brokers (Licensing and Operations) Regulations, 2016 میں بعض اہم ترامیم کا مسودہ جاری کیا ہے۔
مجوزہ ترامیم کے تحت Assets Under Custody Limit کو بروکر کے Broker Fiduciary Rating (BFR)، Net Worth اور Liquid Capital سے منسلک کرتے ہوئے مختلف کیٹیگریز تجویز کی گئی ہیں۔
🔹 BFR 2 یا اس سے اوپر، Net Worth 250 ملین روپے سے زائد اور Liquid Capital 100 ملین روپے سے زائد ہونے کی صورت میں Assets Under Custody پر کوئی حد نہیں ہوگی۔
🔹 بعض دیگر مالیاتی کیٹیگریز میں Assets Under Custody کی حد بالترتیب 70 گنا، 50 گنا اور 25 گنا تجویز کی گئی ہے۔
🔹 مزید اہم ترمیم کے تحت نئے لائسنس یافتہ Trading and Self-Clearing Broker کے لیے لائسنس جاری ہونے کی تاریخ سے ایک سال کے اندر Broker Fiduciary Rating حاصل کرنا لازم کرنے کی تجویز ہے، تاہم SECP مناسب صورت میں اس مدت میں توسیع دے سکتی ہے۔
⚖️ اہم قانونی نکتہ:
یہ Notification اس وقت مجوزہ ترامیم (Draft Amendments) پر مشتمل ہے۔ اسے حتمی نافذ شدہ قانون یا Regulation سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ SECP نے متعلقہ افراد سے اعتراضات اور تجاویز بھی طلب کی ہیں۔
* قانونی حوالہ:
S.R.O.1441(I)/2026
Securities and Exchange Commission of Pakistan
مورخہ: 24 اگست 2026
Securities Brokers (Licensing and Operations) Regulations, 2016
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
27/08/2026
سیلز ٹیکس رجسٹریشن — نئی رجسٹریشن
اگر آپ اپنے کاروبار کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کروانا چاہتے ہیں تو درخواست دینے سے پہلے ضروری معلومات اور دستاویزات مکمل اور درست رکھنا نہایت اہم ہے۔
کاروباری بینک اکاؤنٹ • کاروباری بینک اکاؤنٹ کا مینٹیننس سرٹیفکیٹ
• بینک اسٹیٹمنٹ جس میں کاروباری سرمایہ ظاہر ہو
• شناختی کارڈ / این ٹی این / شراکت داری معاہدہ
بجلی کے میٹر سے متعلق دستاویزات • جی پی ایس مقام کے ساتھ بجلی کے میٹر کی تصویر
• کاروباری جگہ کا بجلی کا بل
• کرایہ نامہ یا ملکیت کا ثبوت
کاروباری جگہ کی تصاویر • جی پی ایس کے ساتھ کاروباری جگہ کی تصویر
• کاروباری نام اور سائن بورڈ کی تصویر
• کاروباری جگہ کے داخلی راستے کی تصویر
• کاروباری سرگرمی اور کام کرنے کے ماحول کی تصویر
مالی معلومات • دستخط شدہ اور مہر شدہ بیلنس شیٹ
• کاروباری بینک اکاؤنٹ کی اسٹیٹمنٹ
• مالک یا شراکت داروں کی گزشتہ سال کی انکم ٹیکس تفصیلات
• خریداروں کے آرڈرز، ایڈوانس یا قرض سے متعلق ثبوت
اہم: سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے پہلے کاروباری نام، پتہ، کاروباری نوعیت، بینک اکاؤنٹ اور دیگر متعلقہ معلومات کا درست اور مکمل ہونا ضروری ہے۔
درست معلومات اور مکمل دستاویزات رجسٹریشن کے عمل کو بہتر انداز میں مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
26/08/2026
⚖️ سیکشن 122 اور بینک اسٹیٹمنٹ — سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کیا کہ صرف بینک اسٹیٹمنٹ یا اس میں موجود ہر کریڈٹ انٹری کو ازخود قابلِ ٹیکس آمدن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مقدمہ: Commissioner Inland Revenue (Special Zone for Builders & Developers), RTO Islamabad v. M/s Khudadad Heights, Islamabad
Civil Petition No. 862 of 2024
فیصلہ: 27 فروری 2025
حوالہ: 2025 SCMR 716 / 2025 PTD 582
عدالت نے قرار دیا کہ “Definite Information” کا تعین ہر مقدمے کے حقائق اور معلومات کے ماخذ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ محض بینک اکاؤنٹ میں موجود Transactions اس وقت تک ٹیکس دہندہ کی قابلِ ٹیکس آمدن ثابت نہیں کرتیں جب تک متعلقہ معلومات سے آمدن کی واضح اور قانونی بنیاد قائم نہ ہو۔
اس لیے بینک ٹرانزیکشن اور قابلِ ٹیکس آمدن کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ ہر کریڈٹ انٹری کی نوعیت، Source of Funds، متعلقہ دستاویزات اور اس کے ٹیکس اثرات کو قانون کے مطابق جانچنا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ سیکشن 122، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت Assessment میں ترمیم یا دوبارہ کارروائی کے معاملات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اہم عدالتی حوالہ جات:
▪️ CIR v. M/s Khudadad Heights, Islamabad — 2025 SCMR 716
▪️ CIR Zone-I RTO Rawalpindi v. M/s Khan CNG Filling Station — 2017 SCMR 1414
▪️ CIR RTO Bahawalpur v. M/s Bashir Ahmed — 2021 SCMR 1290
قانون کا بنیادی اصول:
ہر بینک کریڈٹ آمدن نہیں، اور ہر بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود “Definite Information” نہیں ہوتی۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory
24/08/2026
سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 20 آف 2026 — کم خطرے والے درخواست گزاروں کی رجسٹریشن میں سہولت
وفاقی بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 20 آف 2026 جاری کرتے ہوئے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے عمل کو زیادہ تیز، شفاف اور سہولت بخش بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
اس جنرل آرڈر کے مطابق:
🔹 سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی بنیادی شرائط بدستور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور سیلز ٹیکس رولز 2006 کے باب اول کے تحت رہیں گی۔
🔹 درخواست گزار کو مقررہ درخواست آن لائن جمع کرانے کے ساتھ ضروری معلومات اور دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں بینک اکاؤنٹ کا سرٹیفکیٹ، یوٹیلیٹی کی تفصیلات اور کاروباری جگہ کی تصاویر شامل ہیں۔
🔹 صنعت کار کے لیے مشینری اور صنعتی بجلی یا گیس کے میٹر کی تصاویر بھی درکار ہوں گی۔
🔹 صنعت کاروں کے معاملے میں ایف بی آر ضرورت کے مطابق رجسٹریشن سے پہلے یا بعد میں تصدیق کروا سکتا ہے، جس کے لیے فیلڈ دفاتر یا ایف بی آر کی جانب سے مجاز تیسرے فریق کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
🔹 اس طریقۂ کار کا بنیادی مقصد جائز اور کم خطرے والے درخواست گزاروں کی رجسٹریشن کو بلاوجہ تاخیر کے بغیر مکمل کرنا ہے، جبکہ جعلی، فرضی یا مشکوک رجسٹریشن کے خلاف ضروری حفاظتی اقدامات بھی برقرار رکھنا ہے۔
ٹیکس دہندگان کے لیے اہم بات
اس جنرل آرڈر کا مقصد ہر درخواست گزار کے لیے شرائط ختم کرنا نہیں بلکہ جائز اور کم خطرے والے کاروباروں کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنانا ہے۔
لہٰذا سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے قبل تمام مطلوبہ دستاویزات، کاروباری مقام، بینک اکاؤنٹ، یوٹیلیٹی تفصیلات اور دیگر متعلقہ معلومات درست اور مکمل رکھنا نہایت اہم ہے۔
قانون کی درست سمجھ، مکمل دستاویزات اور مناسب ٹیکس تعمیل ہی غیر ضروری پیچیدگیوں سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔
حوالہ: سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 20 آف 2026 — آئی آر آپریشنز
تاریخ: 24 اگست 2026
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory
23/08/2026
پاکستان میں نان فائلرز کے لیے اہم ٹیکس دفعات
نان فائلر ہونا صرف ریٹرن جمع نہ کروانے تک محدود نہیں، بلکہ مختلف مالی معاملات میں اضافی ٹیکس اور قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے تحت چند اہم دفعات درج ذیل ہیں:
دفعہ 114 — آمدن کا گوشوارہ
قانون کے تحت مقررہ افراد کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا لازم ہے۔ ریٹرن جمع نہ کروانے کی صورت میں قانونی اور مالی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
دفعہ 181 — ٹیکس رجسٹریشن
ایف بی آر کے ساتھ ٹیکس رجسٹریشن اور قومی ٹیکس نمبر (این ٹی این) سے متعلق ہے۔
دفعہ 182 — جرمانے
ریٹرن جمع نہ کروانے اور قانون کی مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانوں کا نظام فراہم کرتی ہے۔
دفعہ 148 — درآمدات پر پیشگی انکم ٹیکس
درآمدی معاملات میں پیشگی ٹیکس کی وصولی سے متعلق ہے، جس کی شرح متعلقہ قانون اور ٹیکس دہندہ کی حیثیت کے مطابق متعین ہوتی ہے۔
دفعہ 150 — منافعِ حصص پر ٹیکس
منافعِ حصص کی ادائیگی پر ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق ہے۔
دفعہ 153 — مقیم افراد کو ادائیگیاں
اشیاء، خدمات اور معاہدوں سے متعلق مخصوص ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق ہے۔
دفعہ 231AB — نان اے ٹی ایل افراد کی نقد رقم نکلوانا
فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہ ہونے والے افراد کی جانب سے نقد رقم نکلوانے پر قابلِ اطلاق پیشگی ٹیکس سے متعلق ہے۔
دفعہ 231B — موٹر گاڑیوں پر پیشگی ٹیکس
موٹر گاڑیوں سے متعلق مخصوص معاملات میں پیشگی ٹیکس کے اطلاق سے متعلق ہے۔
دفعہ 236C — غیر منقولہ جائیداد کی فروخت یا منتقلی
جائیداد فروخت یا منتقل کرنے کے وقت پیشگی ٹیکس کی وصولی سے متعلق ہے۔
دفعہ 236K — غیر منقولہ جائیداد کی خریداری
غیر منقولہ جائیداد خریدنے کے وقت پیشگی ٹیکس کی وصولی سے متعلق ہے۔ فائلر، لیٹ فائلر اور نان فائلر کی حیثیت کے مطابق شرح مختلف ہو سکتی ہے۔
دفعہ 236G — مخصوص اشیاء کی تھوک سطح پر فروخت
مخصوص اشیاء کی ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز یا ہول سیلرز کو فروخت پر پیشگی ٹیکس سے متعلق ہے۔
دفعہ 236H — مخصوص اشیاء کی خوردہ فروخت
مخصوص اشیاء کی ریٹیلرز کو فروخت پر پیشگی ٹیکس سے متعلق ہے۔
اہم قانونی وضاحت
مذکورہ دفعات کی عملی شرحیں اور اطلاق وقتاً فوقتاً فنانس ایکٹ اور متعلقہ ایف بی آر نوٹیفکیشنز کے ذریعے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف "فائلر" یا "نان فائلر" کی اصطلاح دیکھ کر ٹیکس کی حتمی شرح اخذ کرنا درست نہیں۔
ٹیکس قوانین میں درست دفعہ، موجودہ شرح اور متعلقہ قانونی ترمیم کو دیکھنا ضروری ہے۔
قابلِ اعتماد ٹیکس رہنمائی کے لیے ہمیشہ موجودہ قانون اور ایف بی آر کی تازہ ترین ہدایات کو مدِنظر رکھیں۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory