12/07/2023
Taxation Pakistan
Professional and Qualified
Team for Business and Tax Consultancy.
12/07/2023
02/11/2020
Tax Consultancy Kasur
128, Haji Commercial zone, near New Bus Terminal, Kasur, Punjab 55050
0321 6247878
Tax Consultancy Kasur ★★★★★ · Tax consultant · 128, Haji Commercial zone, near New Bus Terminal
14/04/2020
In view of the prevailing Corona virus outbreak, Federal Board of Revenue (FBR) is taking necessary precautions to limit the spread of the virus. For this reason, FBR is recommending limiting paper-based correspondence to a minimum by utilizing email and fax as means of communication.
Following is the list of email and fax numbers available for correspondence:
SECP Facilitation in the wake of Covid-19:
-19 pandemic, SECP’s response is focused on health and safety of business workforce all over Pakistan and maintaining continuity of economic activity. To facilitate companies, SECP approved following relaxations in relation to compliance with requirements of Companies Act:
All companies which are facing difficulties in holding AGM for year ended on Dec 31, are given extension of 30 days for holding their AGMs. The companies can now hold their AGM for the year ended on December 31, 2019 on or before May 29, 2020.
The companies, whose election of directors is due before or in the aforesaid AGM, may file impediment reports with the concerned registrar under section 158(2) of the Act citing the reasons for delay in holding the election of directors.
Accordingly, any statutory return, which is required to be filed on or after March, 24 may be filed with the concerned registrar with the delay of 30 days of occurrence of any event without any additional filing fee as no penal action shall be taken for the late filing.
21/01/2020
فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے جاری کردہ پریس ریلیز میں وضاحت کی ہے کہ تاجروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ٹیکس ترمیمی آرڈینینس کے ذریعے قوانین میں درستگی کر دی گئی ہے۔ اب جبکہ شنا ختی کارڈ کی شرط ہر فروخت پر قانونی شکل اختیا ر کر گئی ہے جس کی وجہ سے تاجران جائز مطالبہ کر رہے تھے کہ ان پر عائد کم از کم ٹیکس کی شرح میں کمی لائی جائے کیونکہ بہت سے ٹیکس گزار ، کم از کم ٹیکس کی زیادہ شرح کی وجہ سے اپنی فروِخت کے درست اعداد و شمار دینے سے گریز کیا کرتے تھے ۔
فروخت کے درست اعدادوشمار کے رحجان کو تقویت دینے کے لئے ٹیکس کی کم از کم شرح کو قابل قبول بنایا گیا ہے۔ اسی طرح تجارتی آسانی کے فروغ کے لئے درمیا نے درجہ کے تاجران کو ودہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داریوں سے مبرا کر دیا گیا ہے۔ تاجر تنظیموں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ درمیانے اور بڑے ریٹیلرز کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ کرایا جائے گا۔
تاجر تنظیموں نے اپنے نمائندگان بھی نامزد کر دیے ہیں تاکہ کم ٹیکس دینے والے کاروبار کے ٹرن اوور کا جائزہ لیا جاسکے۔ مزید براں تاجر تنظیموں نے آڈٹ تنازعات کے حل کے لئے ایف بی آر کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس گزاروں کے تعاون کے ساتھ ٹیکس نظام میں بہتری لانا چاہتا ہے اور محاذ آرائی سے گریز چاہتا ہے۔ ایف بی آر کے ان اقدامات کی بدولت معاشی سرگرمیوں کو متاثر کئے بغیر ٹیکس اہداف کے حصول میں مدد ملے گی اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے مقصد کو بھی حاصل کیا جا سکے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے جاری کردہ پریس ریلیز میں وضاحت کی ہے کہ جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 2083ارب روپے کا ٹیکس اکھٹا ہوا ہے جو کہ 16.3فیصد پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔16-2015سے اب تک کا یہ بلند ترین اضافہ ہے۔ معاشی حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود یہ اضافہ ایف بی آر کی انتھک کوشش کا نتیجہ ہے۔
سال کی پہلی سہ ماہی میں درآمدات میں دانستہ کمی کے باعث 2367ارب کے ٹیکس ہدف کو نظرثانی کے بعد 2197ارب کر دیا گیا تھا ۔ درآمدات میں کمی کا یہ رحجان دوسری سہ ماہی میں بھی جاری رہا جس کے نتیجے میں امپورٹ پر ٹیکسوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ۔درآمدات میں پانچ ارب ڈالرز سے زائد کمی کے نتیجے میں جہاں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت حال بہتر ہوئی وہاں حکومت کے ٹیکس ذرائع میں کمی واقع ہوئی۔ ہر ایک ارب ڈالر کی درآمدات کی کمی کے نتیجے میں تقریبأ56ارب روپے کا ٹیکس خسارہ واقع ہوتا ہے ۔ اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو ایف بی آر اپنے ٹارگٹ کے مطابق ٹیکس جمع کر رہا ہے ۔
ایف بی آر نے اندرونی ذرائع سے حاصل ٹیکسز کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے اور اس سال درآمدی ٹیکسز پر انحصار چھپن فیصد سے چالیس فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔ معاشی رفتار میں اگلے چھ ماہ میں تیزی اور درآمدات میں متوقع استحکام کے باعث یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ایف بی آر اس سال معاشی سرگرمیوں کو متاثر کئے بغیر اپنے اہداف کے قریب تر ٹیکس اکھٹا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے پریس میں چھپنے والی خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوائینٹ آف سیل نظام کا اطلاق ملک کے تمام بڑے شہروں میں موجود بڑے ریٹیل سٹورز پر عائد ہو گا جو کہ زیادہ تعداد میں لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے بڑے شاپنگ مالز میں واقع ہیں اور جن کی تین یا تین سے زائد برانچز ہیں۔ ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ چھپنے والی خبر میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ چھوٹے دوکانداروں پر بھی پوائنٹ آف سیل نظام کا اطلاق ہو گا جو کہ درست نہیں ہے۔
ایف بی آر کی طرف سے اس سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات پر تاجر برادری کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور ان کی مشاورت اور تعاون سے پوائینٹ آف سیل نظام پر عمل درآمد ممکن ہو رہا ہے۔
30/12/2019
FBR timings:
30-12-2019 (Monday) till 8:00 PM
31-12-2019 (Tuesday) till 10:00 PM
NBP timings:
30-12-2019 (Monday) till 5:00 PM
31-12-2019 (Tuesday) till 9:00 PM
Regards,
Ashfaq Mansha
ACMA,ICM-UK,PIPFA
0321-6247878
Taxation in Pakistan-File your Tax Returns & Become a Filer. A.M. & Co.is a group of professionals. We have been providing online Tax Return and Business consultancy services in all over Pakistan.
Contact the business
Telephone
Website
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |