Clicks by Waqas Siddique Samma
Finea Solutions
We are a UAE-based firm offering Accounting, Bookkeeping, VAT, Feasibility, Market Research, and Web Development services.
With 15+ years of experience in the UAE and Gulf region, we help businesses with financial clarity, compliance, and digital growth. I am a Certified Chartered Accountant with more than 10 years of experience in Teaching, Mentoring and Entrepreneurship. I am a Co-founder and CEO of Maison De Bel Private Limited, Co founder of Dropouts, Eastitch and Emerald Trainings.
ﻭﮦ ﻃﺎﺋﻒ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﻨﯿﺘﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ؟ ﺟﺎﮦ ﻭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﻧﮩﯿﮟ !!!! ﺟﺎﮦ ﻭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﺎ، ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﻗﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺟﺎﮦ ﻭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﻭﮦ ﺟﺎﮦ ﻭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻝ ﮐﯽ ﺍﺳﮯ ﭘﺮﻭﺍﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﮬﮑﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﺪﺑﺨﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﺑﭽﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮭﺮ !!! ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﻣﺎﺭﺗﮯ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ !!!
ﺩﻭ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ، ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ۔
ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺗﺮﯾﺐ ﻣﺨﻠﻮﻕ۔
ﭘﺘﮭﺮ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺧﻮﻥ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮﺗﺎ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺧﻮﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺪﺍ، ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﭩﺘﯽ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺑﺠﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﺳﺎﺗﺎ۔ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﭘﺘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻔﻮ ﻭ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺗﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﮭﺎﺋﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﻟﯿﺘﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﺟﺎﺗﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﮭﺎﺗﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺎﺿﯽ ﺻﺎﺣﺐ ! ﺳﺒﻖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺧﺪﺍ ﻭﺟﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﮐﺲ ﮐﮭﯿﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﻟﯽ ﮨﻮ؟
ﺧﺪﺍ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﺟﻮ ﺍﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮﺋﯽ، ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻟﭙﭩﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺧﻮﺩ ﺯﺧﻢ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺁﻧﭻ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ۔
ﺍﻓﻀﻞ ﺍﻟﺒﺸﺮ ﮐﺎ ﻋﻔﻮ ﻭ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔
ﻭﮦ ﻃﺎﺋﻒ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮭﺮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﻧﮑﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﺎﻧﮧ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﮐﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺍﻭﺟﮭﮍﯼ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﮔﮭﭩﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺁﮐﺮ ﺍﻭﺟﮭﮍﯼ ﮨﭩﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﻧﺒﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺪ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﭼﻤﮏ ﺟﺎﺗﯿﮟ، ﺯﻣﯿﻦ ﮨﻞ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺒﯽ ﮨﯽ ﻋﻔﻮ ﻭ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﮐﻮﻥ ﮐﺮﮮ؟
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻔﻮ ﻭ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮑﺎﻟﯿﻒ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ،
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺑﺎﺋﯿﮑﺎﭦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ، ﻣﺠﻨﻮﻥ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﺒﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﻃﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،
ﻟﻮﮒ ﮈﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻔﯿﮟ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ !
ﻭﮦ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻋﺎﻡ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﻮﮒ ﺷﺸﺪﺭ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻗﺪﺭﺕ ﭘﺎ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻌﺎﻓﯽ؟
ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ !! ﯾﮧ ﺳﭽﺎ ﻧﺒﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻔﻮ ﻭ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔
ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺒﯽ !!
ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻓﺨﺮ !!
ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺤﺒﻮﺏ !!
ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺋﯿﮉﯾﻞ !!
ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﮩﺎﺭﺍ !!
ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽٰ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ
ایک دفعہ ایک دیہاتی نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر کچھ پوچھنے کی اجازت طلب کی۔ آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت عطا ہونے پر اس نے کچھ سوال پوچھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جوابات مرحمت فرمائے ان سے ہمیں عمر بھر کے لیے رہنمائی میسر آتی ہے۔ آئیے وہ سوال و جواب پڑھتے ہیں۔
سوال : امیر (غنی) بننا چاہتا ہوں ۔ کیا کروں ؟
جواب : قناعت اختیار کرو، امیر ہوجاؤ گے
سوال: میں بڑا عالم بننا چاہتا ہوں ؟
جواب : تقویٰ اختیار کرو۔
سوال: عزت والا بننا چاہتا ہوں ؟
جواب: مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کردو ۔
سوال : اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں ؟
جواب : لوگوں کو نفع پہنچانے والے بن جاؤ۔
سوال : عادل بننا چاہتا ہوں
جواب: جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو، وہی دوسروں کےلیے بھی پسند کرو۔
سوال : طاقتور بننا چاہتا ہوں ؟
جواب : اللہ تعالی پر توکل کرو۔
سوال : اللہ تعالی کے دربار میں خاص درجہ حاصل کرنا چاہتا ہوں؟
جواب : کثرت سے ذکر (یادِ الہی ) کرو۔
سوال: رزق میں کشائش چاہتا ہوں ؟
جواب : ہمیشہ باوضو رہو۔
سوال: دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں ؟
جواب: حرام نہ کھاؤ۔
سوال: ایمان کی تکمیل (و کاملیت) چاہتا ہوں
جواب: اخلاق اچھے کر لو۔
سوال: روزقیامت گناہوں سے پاک ہوکر اللہ تعالی سے ملنا چاہتا ہوں؟
جواب: جنابت کے فوراً بعد غسل کیا کرو۔
سوال: گناہوں میں کمی چاہتا ہوں؟
جواب: کثرت سے استغفار کرو۔
سوال: قیامت کے روز “نور“ میں اٹھنا چاہتا ہوں ؟
جواب: ظلم کرنا چھوڑدو۔
سوال: چاہتا ہوں کہ اللہ تعالی میری پردہ پوشی فرمائے؟
جواب: مخلوقِ خدا کی پردہ پوشی کیاکرو۔
سوال: رسوائی سے بچنا چاہتا ہوں ؟
جواب: زنا سے بچو ۔
سوال: اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب بن جاؤں؟
جواب: اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنا محبوب بنا لو ۔
سوال: اللہ تعالی کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں؟
جواب: فرائض کا اہتمام کیا کرو۔
سوال: احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں ؟
جواب: اللہ تعالی کی بندگی یوں کرو گویا تم اسے یا وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔
سوال: کیا چیز گناہوں سے معافی دلاتی ہے ؟
جواب: آنسو۔۔۔ عاجزی۔۔۔ اور بیماری
سوال: کیا چیز دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرتی ہے؟
جواب: دنیا کی مصیبتوں پر صبر
سوال: اللہ تعالی کے جلال کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے ؟
جواب: چپکے چپکے (بغیر ریاکاری کے) صدقہ اور صلہ رحمی (حسنِ سلوک)
سوال: اللہ تعالی کے جلال سے بچنا چاہتا ہوں ؟
جواب: لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو۔
سوال: سب سے بڑی برائی کیا ہے؟
جواب: برے اخلاق۔۔۔۔ اور بخل (کنجوسی۔ کسی نعمت کو آگے نہ پہنچانا)
سوال: سب سے بڑی اچھائی کیا ہے ؟
جواب: اچھے اخلاق۔۔۔ تواضع۔۔۔۔ اور صبر
(مسند امام احمد )
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبيري
کہ فقر خانقاہي ہے فقط اندوہ و دلگيري
ترے دين و ادب سے آ رہي ہے بوئے رہباني
يہي ہے مرنے والي امتوں کا عالم پيري
شياطين ملوکيت کي آنکھوں ميں ہے وہ جادو
کہ خود نخچير کے دل ميں ہو پيدا ذوق نخچيري
چہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہ من
کہ برد آں شور و مستي از سيہ چشمان کشميري
ایک جج نے اپنا واقعہ سنایا :
" میں ایک جگہ سیشن جج لگا ہوا تھا ۔ ایک کیس آیا ،ایک ملزم میرے سامنے پیش کیا گیا جس پر قتل کا الزام تھا‘ سارے ثبوت اس کے خلاف تھے ۔مگر وہ تھا بہت معصوم شکل ،اور روتا اور چیختا بھی تھا کہ میں نے یہ قتل نہیں کیا۔ اس کی معصومیت سے یہ پتہ چلتا تھا کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن ثبوت یہ بتاتے تھے کہ اس نے قتل کیا ہے۔
میری زندگی کا تجربہ تھا ،میرے تجربات اور اس کی معصومیت یہ بتا تی تھی کہ اس نے قتل نہیں کیا۔ اس لیے میری کوشش یہ شروع ہوگئی کہ اس کو بچالوں۔ اسی کوشش میں تقریباً تین مہینے میں نے اس فیصلے کو لمبا کیا لیکن میری کوشش ناکام رہی۔ میں سارا دن اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ میری زندگی کا کوئی یہ عجیب فیصلہ تھا۔ آخر کار میں نے اس کو سزائے موت لکھ دی۔
دوسرے دن اس کو سزائے موت ہونی تھی میں اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ سچ سچ بتاؤ تم نے قتل کیا ہے؟
کہنے لگا ،جج صاحب میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے قتل نہیں کیا۔
میں نے کہا ،تم نے کونسا ایسا جرم کیا ہے جس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے ؟
کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ،صاحب جی میں نے ایک گناہ کیا ہے، مجھے یاد آگیا ہے، وہ یہ کہ میں نے ایک کتیا کو بڑی بے دردی سے مارا تھا اور وہ مرگئی تھی، بس وہ قتل میں نے کیا ہے۔
میں فوراً چونک پڑا، اور اسے کہا، تبھی تو جب سے تمہارا کیس میرے پاس آیا ہے، آج تین مہینے ہوگئے ہیں، روزانہ جب میں گھر جاتا ہوں تو ایک کتیا میرے دروازے پر بیٹھی ہوتی ہے، اور چیاؤں چیاؤں کرتی ہے اور اپنی زبان میں مجھ سے انصاف کا کہتی ہے۔"
جج صاحب نے بتایا کہ دوسرے دن اس شخص کو پھانسی ہوگئی اور مجھے سبق ملا ،وہ یہ کہ اللہ کی مخلوق پر ظلم کرنے والے کو اللہ ضرور سزا دیتا ہے، اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ہماری نظر میں جو مخلوق حقیر اور نجس ہے لیکن بنانے والے کو وہ مخلوق کتنی پیاری ہے۔
پڑوسی
اتوار کے روز صبح صبح حلوہ پُوری کا ناشتہ کر کے میں پیدل گھر کی طرف آرہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے پڑوسی کے دونوں بچے جن کی عمر 8 سے 10 سال کے درمیان ہوگی کچّے میدان میں سے کچھ جمع کرتے پھر رہے ہیں۔ ہمسایہ نہایت شریف انسان تھا اُس کے بچے آوارہ گردی کریں اور کچرا ٹٹولیں مجھے برداشت نہ ہوا۔
میں نے آواز دے کر اُن دونوں کو بُلایا۔ وہ مجھے دیکھ کر چونک گئے اور ہاتھوں میں پکڑی تھیلی چُھپالی، میں قریب گیا اور پوچھا! کیا کچرا گند جمع کرتے پھر رہے ہو؟ وہ دونوں ڈر گئے اور روہانسے ہو گئے۔ دونوں کی آنکھیں نم تھیں لیکن میں نے کہا کہ چلو میں تم دونوں کی شکایت کرتا ہوں اور ذرا تھیلی دکھاؤ۔ یہ کہ کر میں نے تھیلی اُن کے ہاتھ سے لے کر کھولی تو اُس میں بہت سے پودے تھے۔ میں نے پھر ذرا اُونچی آواز میں پوچھا! کیا ہے یہ؟ اس بار بڑا لڑکا دھیرے سے بولا! انکل یہ چولائی کے ساگ کے پودے ہیں، آج کل ابّو کا کام نہیں چل رہا امی کہتی ہیں خرچے زیادہ ہیں اور پیسے کم ہیں اس لیئے ہم دونوں اکثر صبح یہ پودے توڑ کر گھر لے جاتے ہیں جس کا امی ساگ بنا لیتی ہیں، اس بارے میں ابو اور امی دونوں کو پتا ہے۔
میں زمیں بوس ہونے کو تھا۔ میں پڑوسی تھا اور کتنا بے خبر۔۔ تُف ہے میری ہمسائیگی پر ۔۔۔۔ کس کام کی میری نمازیں روزے؟ جو میں اپنے پڑوسی کے حال سے بے خبر ہوں، طلب کرنے پر امداد تو کر دی جاتی ہے، اصل مدد تو وہ ہے کہ کسی کی پریشانی بنا مانگے دور کی جائے ۔۔۔۔
تحریر: عدنان نذر
جب آپ بچے کو چلنا سکھا رہے ہوتے ہیں تو اسے ایک جگہ کھڑا کردیتے ہیں
اور آپ تھوڑے سے فاصلے پر خود جا کر بیٹھ جاتے ہیں
بچہ اس وقت بہت ڈر رہا ہوتا ہے۔
خود کو تنہا محسوس کر رہا ہوتا ہے
پریشانی محسوس کر رہا ہوتا ہے
وہ جلد از جلد اپ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے
اور آپ کی گود تک پہنچتے ہی آپ کی بانہوں میں سما جاتا ہے۔
اور آپ کو بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر بچے کو اس مرحلہ سے نہ گزارا جائے تو بچہ کبھی چلنا نہ سیکھ سکے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچہ راستے میں ڈگمگا جاتا ہے اور گرنے کے قریب ہوجاتا ہے
لیکن مستقل توجہ کی وجہ سے وہ گِر نہیں پاتا بلکہ آپ فورا اسے سنبھال لیتے ہیں اور دوبارہ کھڑا کردیتے ہیں۔
بالکل اسی طرح جب اللہ کسی بندے کو اپنا دوست بنانا چاہ رہے ہوتے ہیں
تو اسے پریشانی میں مبتلا کردیتے ہیں۔
وہ پریشان ہوکر اپنے معبود حقیقی کی طرف لوٹتا ہے۔
جو کہ مستقل اسکی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
راستے میں کئی مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب بندہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہا ہوتا ہے
لیکن درحقیقت وہ تنہا نہیں ہوتا
بلکہ اللہ کی تربیت میں ہوتا ہے۔
تو بھول جایئے اس بات کو کہ آپ اللہ کی طرف بڑھنے کی کوشش میں گرنے لگیں اور اللہ آپ کو نہ سنبھالے۔
کیونکہ حدیث کے مطابق جب انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اللہ اسکی طرف دوگنا متوجہ ہوتے ہیں۔
تحریر:
قاضی محمد حارث
20/12/2014
Become Certified Financial Accountant
Going back to my home town Gujrat and would be back to office on Monday 13 Jan 2014 In Shaa Allah
UAE Job seekers; the following websites could be beneficial for you:
www.waytogulf.com
www.uaenaukri.com
www.bayt.com
www.uaestaffing.com
www.monstergulf.com
www.gulftalent.com
www.itjobsdubai.com
www.aramex.com
www.etisalat.ae
www.dewa.gov.ae
www.dnata.com
dubaicity.olx.com
www.mycareer.com
www.trasstaffing.com
www.datadubai.com
www.totaljobs.com
www.alarabia.com
www.dubailime.com
My first batch for OBU BSc Degree Program is starting from 16 December 2013 In Shaa Allah and we would In Shaa Allah ensure the continuance of our tradition of achieving 100% result.
Contact the business
Telephone
Website
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 21:00 |
| Tuesday | 09:00 - 21:00 |
| Wednesday | 09:00 - 21:00 |
| Thursday | 09:00 - 21:00 |
| Friday | 09:00 - 21:00 |
| Saturday | 09:00 - 21:00 |